آج سوچا ہے کہ ہستی ترا بیاں لکھوں

آج سوچا ہے کہ ہستی ترا بیاں لکھوں
سامنا ہو سب سے ایسی کسی جگہ لکھوں

ہے عجب روش پہ معمور زندگی مری
اب عجب سفر کے بابت بتا میں کیا لکھوں

جانتے نہیں ہو تم اپنے اک بھی وعدے کو
بے وفا کہوں کہ اب بھی میں اپنی جاں لکھوں

زندگی تری ڈگر پر ملال ہے مجھے
فیصلے جو ارماں ہیں بن گئے کہاں لکھوں

اک بشر کو چاہا شوبیؔ وہ ہی ملا نہیں
زندگی کو اب میں نادر کہ رائیگاں لکھوں

شعیب شوبی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

1 تبصرہ

اسرار جون 3, 2025 - 6:43 شام
کتنی خوبصورت غزل ہے
Add Comment