آگے کی ٹھوکروں سے بچا کر چلا گیا

آگے کی ٹھوکروں سے بچا کر چلا گیا
اک شخص میرے رستے میں آ کر چلا گیا

وہ درد کے دوا کے دلوں کے سوال پر
غالبؔ کا ایک شعر سنا کر چلا گیا

جس کو کبھی بھلا نہ سکی ایک پل بھی میں
وہ مجھ کو ایک پل میں بھلا کر چلا گیا

اس نے سفر میں ساتھ تو میرا نہیں دیا
مجھ کو مگر وہ رستہ دکھا کر چلا گیا

دل چاہتا ہے اس کو ہی مرہم کے طور پر
جو شخص دل پہ زخم لگا کر چلا گیا

سوچو ذرا کہ کتنا دکھا ہوگا اس کا دل
ہنستے ہوئے جو اشک چھپا کر چلا گیا

سپنا مولچندانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی