آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو

آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو
تم مجھے رات کا جلتا ہوا جنگل کر دو

چاند سا مصرع اکیلا ہے مرے کاغذپر
چھت پہ آجاؤ مرا شعر مکمل کر دو

میں تمہیں دل کی سیاست کا ہنر دیتا ہوں
اب اسے دھوپ بنا دو مجھے بادل کر دو

تم مجھے چھوڑکے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

اپنے آنگن کی اُداسی سے ذرا بات کرو
نیم کے سوکھے ہوئے پیڑ کو صندل کر دو​

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا