عادت بن گیا ہے تو میری

ہر بات تجھ پر آ کر رکتی ہے
ہر شام تیرے نام پہ ختم ہوتی ہے
دن کا آغاز تجھے دیکھ کر ہوتا ہے
ہر رات تیری قربت میں کٹتی ہے
عادت بن گیا ہے تو میری بری سی
جو چھوٹتے نہ چھوٹتی ہے
تیری خشبو کا ہوا ایسا اثر
ہر خشبو ہمیں اب تیری لگتی ہے
کیا کریں تیرے بغیر اب تو
یہ دنیا بھی غیر لگتی ہے
دیکھیں ہیں بہت دلفریب نظاریں
اور انسان بھی ہر رنگ کے
پر کمبخت نظر ہے کے
بس تجھ پر ہی آکر رکتی ہے

 

شفق

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل