آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

طاقت بیداد انتظار نہیں ہے

دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے

نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو

ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر

خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے

دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی

غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے

قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے

وائے اگر عہد استوار نہیں ہے

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ

تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے

مرزا اسداللہ خان غالب

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا